کاروار:22/ دسمبر(ایس اؤنیوز)ہوناور کے پریش میستا کی موت کے بعد ضلع میں بھڑکے فرقہ وارانہ فسادات سے جہاں عوام کو کافی پریشانیوں کاسامنا کرناپڑا وہیں کئی صنعتیں اور تجارت متاثر ہوئیں۔ ساحلی پٹی پر سب سے بڑ ی اور اہم صنعت کاری ماہی گیری ہے، اور ضلع کے مختلف حصوں میں تشدد کے واقعات اور ہوناور میں کافی دنوں تک بازار کے بند ہوجانے سے کافی خسارہ ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔
ہندو مسلم بھائی چارگی اور یک جہتی کے لئے مشہور بوٹ ماہی گیری کو فرقہ وارانہ تصادم سدراہ بننے سے بوٹ مالکان خوف کے مارے گذشتہ 16دنوں سے تدڈی کنارے پربوٹوں کو پارک کررکھا ہے۔ ماہی گیر اسی سوچ میں مبتلا ہیں کہ حالات آخر کب معمول پر لوٹیں گے اور ہم کب ماہی گیری کے لئے سمندر میں اُتریں گے۔
پریش میستا کی ہلاکت کے بہانے فرقہ وارانہ فسادات برپا کرنے کی کوشش ہوناور میں پیش آئی تھی مگر کمٹہ میں پولس اور سنگھ پریوار کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں کی وارداتیں پیش آئی تھی۔، جس کے بعد سے تدڈی میں رکے ہوئے ماہی گیر بوٹ سمندر میں نہیں اترے ہیں۔ تدڈی میں قریب 35سے گہرے سمندر میں اُترنے والی بوٹ یا پرشین بوٹ ہیں جن میں سے صرف 2بوٹ غیر مسلموں کے ہیں، جبکہ دیگر تمام بوٹ مسلمانوں کے ہیں۔ ہوناور ،بھٹکل وغیرہ میں مسلمانوں کی بوٹوں میں غیر مسلم لوگ کام کرتے ہیں لیکن تدڈی کے متعلق بتایا جارہاہے کہ یہاں کام کرنے والے لوگ بھی مسلمان ہیں اس کے باوجود مسلمان اپنی بوٹوں کو ساحل پر روکے رکھنے کے نتیجے میں 6دسمبر سے 22دسمبر تک کوئی بھی بوٹ مچھلی شکار کے لئے نہیں اُتاری گئی ہے۔ جب مسلمان اپنی بوٹوں کو سمندر میں نہیں اتار رہے ہیں تو ان کو دیکھ کر غیر مسلم ماہی گیر بھی پس و پیش کا شکار ہیں۔ ایسے میں اب سمندر میں طوفانی ہواؤں کا زور بھی دیکھا جارہاہے۔
ساحلی پٹی پر مسلمان اور ہندو ساتھ ساتھ ماہی گیری کرتے رہے ہیں، ہوناور کے بعد کاسرگوڈ میں بھی کچھ دنوں کے لئے ماہی گیر ی بند تھی گذشتہ چارپانچ دنوں سےوہاں دوبارہ ماہی گیری شروع ہوچکی ہے۔